صحیح مسلم حدیث ۲۶۱ - کبیرہ گناہ اور جھوٹی گواہی
کبیرہ گناہ کی حدیث: جھوٹی گواہی سے بچنے کی سخت نصیحت
صحیح مسلم : ۲۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۱
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ ، أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ ، فَقَالَ : " الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَقَالَ : أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ قَالَ : قَوْلُ الزُّورِ ، أَوَ قَالَ : شَهَادَةُ الزُّورِ ، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ شَهَادَةُ الزُّورِ .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا، کبیرہ گناہوں کا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کسی نے کبیرہ گناہوں کا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شرک کرنا اللہ کے ساتھ اور ناحق خون کرنا اور نافرمانی ماں باپ کے متعلق“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم کو بتلاؤں سب کبائر میں کبیرہ وہ جھوٹ بولنا ہے یا جھوٹی گواہی دینا۔“ شعبہ نے کہا: میرا گمان غالب یہ ہے کہ جھوٹی گواہی کو فرمایا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا۔ پہلے اللہ کے ساتھ شرک، ناحق خون کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی بیان ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر جھوٹ بولنے یا جھوٹی گواہی دینے کو بہت بڑا گناہ قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان والے آدمی کی زبان بہت ذمہ دار ہے۔ جھوٹی گواہی صرف ایک غلط بات نہیں، بلکہ اس سے کسی کا حق ضائع ہو سکتا ہے، کسی بے قصور کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور معاشرے میں ناانصافی پھیل سکتی ہے۔ کبیرہ گناہ کی حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے حق، انسان کی جان، والدین کے حق اور سچائی کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے ساتھ شرک کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
- ناحق خون کرنا کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔
- والدین کی نافرمانی سے بچنا ضروری ہے۔
- جھوٹی گواہی زبان کا بہت خطرناک گناہ ہے۔
