صحیح مسلم حدیث ۲۶۲ - سات مہلک گناہوں سے بچو
سات مہلک گناہ: ایمان بچانے والی اہم حدیث
صحیح مسلم : ۲۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۲
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ : " الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَالسِّحْرُ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَأَكْلُ الرِّبَا ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ ، وَقَذْفُ الْمُحْصِنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچو سات گناہوں سے جو ایمان کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! وہ کون سے گناہ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو اور اس جان کو مارنا جس کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے لیکن حق پر مارنا درست ہے اور بیاج کھانا اور یتیم کا مال کھا جانا اور لڑائی کے دن کافروں کے سامنے سے بھاگنا اور خاوند والی ایمان دار پاک دامن عورتوں کو جو بدکاری سے واقف نہیں عیب لگانا۔ “
صحیح مسلم حدیث ۲۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ وہ کون سے گناہ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک، جادو، ناحق قتل، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور پاک دامن ایمان دار عورتوں پر تہمت لگانا بیان فرمایا۔ سات مہلک گناہ کی حدیث ایک مسلمان کو بتاتی ہے کہ گناہ صرف ذاتی کمزوری نہیں ہوتے، بعض گناہ دوسروں کی جان، مال، عزت اور دین کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس لیے آدمی کو اپنے عقیدے، معاملات، زبان اور ذمہ داریوں میں اللہ سے ڈر کر چلنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شرک سے بچنا ایمان کی بنیادی حفاظت ہے۔
- یتیم کا مال کھانا سخت گناہوں میں سے ہے۔
- سود کھانا اس حدیث میں مہلک گناہ بتایا گیا ہے۔
- پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا بہت سنگین بات ہے۔
