صحیح مسلم حدیث ۲۸۰ - مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے کی ممانعت
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے کی حدیث: امت کی جان کی حرمت
صحیح مسلم : ۲۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ بات مختصر ہے مگر بہت سخت ہے۔ مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے کی حدیث جان، امن اور دینی بھائی چارے کی حفاظت کا سبق دیتی ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ مسلمان کو مسلمانوں کے خلاف قتل و قتال، دھمکی اور حملے کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ اس حدیث کا انداز بتاتا ہے کہ یہ عمل امت کے صحیح طریقے کے خلاف ہے۔ مسلمان کی جان کی حرمت پہلے بھی کئی روایات میں بیان ہوئی ہے، اور یہاں خاص طور پر ہتھیار اٹھانے کو سخت الفاظ میں روکا گیا ہے۔ اس لیے اختلاف یا غصے میں بھی خون ریزی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانا سخت منع ہے۔
- مسلمان کی جان اور امن کی حفاظت ضروری ہے۔
- غصہ یا اختلاف خون ریزی کا جواز نہیں بنتا۔
- امت کے اندر فساد پھیلانے والے عمل سے بچنا چاہیے۔
