صحیح مسلم حدیث ۲۸۱ - مسلمانوں پر تلوار اٹھانے کی سخت ممانعت
مسلمانوں پر تلوار اٹھانے کی حدیث اور امن کا پیغام
صحیح مسلم : ۲۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَلَّ عَلَيْنَا السَّيْفَ ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
سلمہ بن اکوع روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہم پر تلوار کھینچے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مسلمانوں کی جان اور امن کا احترام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ جو شخص ہم پر تلوار کھینچے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ یہاں بات بہت مختصر ہے مگر پیغام بہت سخت ہے۔ مسلمان کو مسلمان کے لیے امن کا سبب بننا چاہیے، خوف کا نہیں۔ اس لیے مسلمانوں پر تلوار اٹھانے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ غصے، دشمنی یا لڑائی میں ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو امت کے امن کو توڑ دے۔ یہ حدیث ہتھیار اٹھانے، دھمکانے اور خونریزی کے راستے سے بچنے کی صاف تنبیہ ہے۔ ایک مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ اس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کے خلاف تلوار کھینچنا بہت سخت اور ناپسندیدہ عمل ہے۔
- مسلمان معاشرے میں امن اور جان کی حفاظت کو اہم سمجھنا چاہیے۔
- غصے یا دشمنی میں ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو مسلمانوں کو نقصان دے۔
- اسلامی اخوت کا تقاضا ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے خطرہ نہ بنے۔
