صحیح مسلم حدیث ۲۸۲ - مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانا
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے کی حدیث: ایمان والا امن دیتا ہے
صحیح مسلم : ۲۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۸۲ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ یہ بات مسلمانوں کے باہمی تعلقات کے لیے بہت اہم ہے۔ ہتھیار اٹھانا صرف جسمانی نقصان کا خطرہ نہیں، بلکہ دلوں میں خوف، دشمنی اور بداعتمادی بھی پیدا کرتا ہے۔ حدیث کا انداز بہت سخت ہے تاکہ مسلمان اس عمل کو معمولی نہ سمجھیں۔ ہتھیار اٹھانے کی ممانعت والی حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ مسلمان کو اپنے ہاتھ، زبان اور رویے سے امن قائم رکھنا چاہیے۔ کسی مسلمان کے خلاف طاقت دکھانا، ڈرانا یا نقصان پہنچانے کی نیت رکھنا اسلامی بھائی چارے کے خلاف ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا بہت سخت گناہ والا عمل ہے۔
- ایمان والا رویہ امن، حفاظت اور بھائی چارے پر قائم ہوتا ہے۔
- کسی کو خوف میں ڈالنے سے بچنا چاہیے، خاص طور پر مسلمان بھائی کو۔
- اختلاف ہو تو اسے ہتھیار اور تشدد تک نہیں لے جانا چاہیے۔
