صحیح مسلم حدیث ۲۸۳ - ہتھیار اور دھوکا دونوں سے بچاؤ
دھوکا اور ہتھیار اٹھانا: مسلمان کا راستہ نہیں
صحیح مسلم : ۲۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۳
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ ، فَلَيْسَ مِنَّا ، وَمَنْ غَشَّنَا ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص ہم کو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں ایک ساتھ بیان ہوئیں: جو ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں، اور جو ہمیں دھوکا دے وہ بھی ہم میں سے نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف جسمانی امن ہی نہیں چاہتا بلکہ لین دین، بات چیت اور تعلقات میں سچائی بھی چاہتا ہے۔ دھوکا دینے کی حدیث خاص طور پر ہمیں خبردار کرتی ہے کہ مسلمان کا کردار صاف ہونا چاہیے۔ ایک طرف ہتھیار خوف پھیلاتا ہے، دوسری طرف دھوکا اعتماد توڑتا ہے۔ دونوں کام معاشرے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس لیے ایک مسلمان کو نہ کسی کو ڈرانا چاہیے اور نہ کسی کو فریب دے کر اپنا فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہتھیار اٹھانا اور دھوکا دینا دونوں سخت ناپسندیدہ کام ہیں۔
- مسلمان کا معاملہ صاف، سچا اور امانت والا ہونا چاہیے۔
- اعتماد کو توڑنے والا رویہ اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔
- دوسروں کو نقصان دے کر فائدہ لینا مسلمان کے شایان شان نہیں۔
