حدیث ۲۸۴
صحیح مسلم : ۲۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۴
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا ، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ ؟ " ، قَالَ : أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ ، مَنْ غَشَّ ، فَلَيْسَ مِنِّي " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ایک ڈھیر اناج کا راہ میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو انگلیوں پر تری آ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” اے اناج کے مالک! یہ کیا ہے؟ “ وہ بولا: پانی پڑ گیا تھا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھر تو نے اس بھیگے اناج کو اوپر کیوں نہ رکھا کہ لوگ دیکھ لیتے جو شخص فریب کرے دھوکہ دے وہ مجھ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔“
