صحیح مسلم حدیث ۲۸۵ - مصیبت میں نوحہ اور جاہلیت کے الفاظ

مصیبت میں صبر کی حدیث: گال پیٹنا اور گریبان پھاڑنا نہیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۵

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا ، مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ ، أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ ، أَوْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " ، هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى ، وَأَمَّا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَا : وَشَقَّ وَدَعَا بِغَيْرِ أَلِفٍ .

عبداللہ بن مسعود روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم میں سے نہیں ہے وہ شخص جو گالوں کو پیٹے اور گریبانوں کو پھاڑے یا جاہلیت (کفر) کے زمانے کی باتیں کرے“ اور دوسری روایت میں «او» کے بدلے «و» ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع مصیبت کے وقت صبر اور زبان و جسم کو قابو میں رکھنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم میں سے نہیں وہ شخص جو گالوں کو پیٹے، گریبان پھاڑے یا جاہلیت کے زمانے کی باتیں کرے۔ غم آنا انسان کی فطرت ہے، مگر غم میں ایسے کام کرنا جن سے بے صبری، شکوہ یا جاہلیت کی رسم ظاہر ہو، اس سے منع کیا گیا ہے۔ نوحہ کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مصیبت میں دل غمگین ہو سکتا ہے، مگر ہاتھ اور زبان کو غلط کاموں سے روکنا چاہیے۔ مسلمان کے لیے بہتر راستہ صبر، وقار اور اللہ کے حکم کے سامنے جھکنا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مصیبت میں گال پیٹنا درست رویہ نہیں۔
  • غم کے وقت گریبان پھاڑنے سے منع کیا گیا ہے۔
  • جاہلیت والے الفاظ اور طریقے چھوڑنے چاہییں۔
  • غم میں بھی مسلمان کو اپنے عمل اور زبان کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں