صحیح مسلم حدیث ۲۷۹ - قیامت کے دن کلمہ کا جواب

قیامت کے دن کلمہ کا جواب: لا الہ الا اللہ کی حرمت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۹

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِر ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، أَنَّ خَالِدًا الأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ حَدَّثَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَ ، أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، بَعَثَ إِلَى عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِكَ حَتَّى أُحَدِّثَهُمْ ، فَبَعَثَ رَسُولًا إِلَيْهِمْ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا ، جَاءَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ ، فَقَالَ : تَحَدَّثُوا بِمَا كُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ ، حَتَّى دَارَ الْحَدِيثُ ، فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ ، حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ ، فَقَالَ : إِنِّي أَتَيْتُكُمْ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، وَإِنَّهُمُ الْتَقَوْا ، فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِذَا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ ، وَإِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ ، قَالَ : وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ ، فَقَتَلَهُ ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ ، فَأَخْبَرَهُ حَتَّى أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : لِمَ قَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهَ ، أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ ، وَقَتَلَ فُلَانًا وَفُلَانًا ، وَسَمَّى لَهُ نَفَرًا ، وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ : وَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ " .

صفوان بن محرز روایت:

جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے عسعس بن سلامہ کو کہلا بھیجا جب سیدنا عبداللہ بن زیبر رضی اللہ عنہ کا فتنہ ہوا کہ تم اکٹھا کرو میرے لئے اپنے چند بھائیوں کو تاکہ میں ان سے باتیں کروں۔ عسعس نے لوگوں کو کہلا بھیجا۔ وہ اکٹھے ہوئے تو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ آئے ایک زرد برنس اوڑھے تھے (صراح میں ہے برنس وہ ٹوپی جس کو لوگ شروع زمانہ اسلام میں پہنتے تھے اور راوی نے کہا: برنس وہ کپڑا ہے، جس کا سر اسی میں لگا ہوا ہو کرتہ یا جبہ۔ جوہری نے کہا: برنس ایک لمبی ٹوپی تھی جس کو لوگ ابتدائے اسلام میں پہنتے تھے) انہوں نے کہا: تم باتیں کرو جو کرتے تھے۔ یہاں تک کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کی باری آئی (یعنی ان کو بات ضرور کرنا پڑی) تو انہوں نے برنس اپنے سر سے ہٹا دیا۔ اور کہا: میں تمہارے پاس آیا اس ارادے سے کہ بیان کروں تم سے حدیث تمہارے پیغمبر علیہ السلام کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکوں کی ایک قوم پر بھیجا، اور وہ دونوں ملے (یعنی آمنا سامنا ہوا میدان جنگ میں) تو مشرکوں میں ایک شخص تھا وہ جس مسلمان پر چاہتا اس پر حملہ کرتا اور مار لیتا آخر ایک مسلمان نے اس کی غفلت کو تاکا اور لوگوں نے ہم سے کہا: وہ مسلمان سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر جب انہوں نے تلوار اس پر سیدھی کی تو اس نے کہا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» لیکن انہوں نے مار ڈالا اس کے بعد اس کا قاصد خوشخبری لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حال پوچھا۔ اس نے سب حال بیان کیا یہاں تک کہ اس شخص کا بھی حال کہا (یعنی سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور پوچھا: ”تم نے کیوں اس کو مارا؟“ اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے بہت تکلیف دی مسلمانوں کو، تو مارا فلاں اور فلاں کو اور نام لیا کئی آدمیوں کا پھر میں اس پر غالب ہوا۔ جب اس نے تلوار کو دیکھا تو «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہنے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم نے اس کو قتل کر دیا۔ “ انہوں نے کہا: ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم کیا جواب دو گے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کا جب وہ آئے گا دن قیامت کے۔ “ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! دعا کیجیے میرے لیے بخشش کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا جواب دو گے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کا جب وہ آئے گا قیامت کے دن “، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ کچھ نہ کہا۔ اور یہی کہتے رہے۔ ”تم کیا جواب دو گے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کا جب وہ آئے گا قیامت کے روز۔ “

صحیح مسلم حدیث ۲۷۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے واقعے کو بیان کیا۔ ایک مشرک لڑائی میں مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچا رہا تھا۔ جب اس پر تلوار اٹھائی گئی تو اس نے لا الہ الا اللہ کہا، مگر اسے قتل کر دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے اسے کیوں قتل کیا؟ جواب میں بتایا گیا کہ اس نے مسلمانوں کو بہت تکلیف دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لا الہ الا اللہ قیامت کے دن آئے گا تو تم کیا کرو گے؟ اسامہ رضی اللہ عنہ نے مغفرت کی دعا کی درخواست کی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی بات دہراتے رہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ کلمہ کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لا الہ الا اللہ قیامت کے دن جواب دہی کا سبب بن سکتا ہے۔
  • کسی کے پچھلے حملے کلمہ کے بعد قتل کی اجازت نہیں بن جاتے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے کو بہت سنجیدہ بتایا۔
  • جان لینے سے پہلے ظاہر ایمان کا احترام ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں