صحیح مسلم حدیث ۲۶۸ - شرک سے پاک موت اور جنت
توحید کی حدیث: شرک سے پاک موت جنت کا راستہ
صحیح مسلم : ۲۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ وَكِيعٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ ، يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ النَّارَ " ، وَقُلْتُ أَنَا : وَمَنْ مَاتَ ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور ایک روایت میں ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص مر جائے اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہو وہ جہنم میں جائے گا۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کہتا ہوں جو شخص مر جائے اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو وہ جنت میں جائے گا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہو، وہ جہنم میں جائے گا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے مقابل فرمایا کہ جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، وہ جنت میں جائے گا۔ توحید کی حدیث ہمیں دین کی بنیاد سمجھاتی ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو ایک مانے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور اسی عقیدے پر دنیا سے جائے۔ شرک کا انجام بہت سخت بتایا گیا ہے، جبکہ شرک سے پاک ایمان پر مرنے والے کے لیے جنت کی امید بیان ہوئی ہے۔ یہ بات عقیدے کی حفاظت کو سب سے اہم بناتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے ساتھ شرک کرنا جہنم کا سبب بتایا گیا ہے۔
- شرک سے پاک ایمان جنت کی خوشخبری سے جڑا ہے۔
- توحید دین کی بنیاد ہے۔
- آدمی کو زندگی بھر اپنے عقیدے کی حفاظت کرنی چاہیے۔
