صحیح مسلم حدیث ۲۷۰ - اللہ سے شرک کے بغیر ملاقات
اللہ سے شرک کے بغیر ملاقات: جنت کی امید والی حدیث
صحیح مسلم : ۲۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۰
وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ ، لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ لَقِيَهُ ، يُشْرِكُ بِهِ ، دَخَلَ النَّارَ " ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ : قَال أَبُو الزُّبَيْر : عَنْ جَابِرٍ .
جابر بن عبداللہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص اللہ سے ملے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو وہ جنت میں جائے گا اور جو اس ملے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک کرتا ہو وہ جہنم میں جائے گا۔“ کہا ابوایوب نے کہ ابوزبیر نے کہا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، وہ جنت میں جائے گا۔ اور جو اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہو، وہ جہنم میں جائے گا۔ اللہ سے شرک کے بغیر ملاقات کی حدیث انسان کو آخرت کی تیاری یاد دلاتی ہے۔ دنیا کی زندگی ختم ہو جائے گی، پھر بندہ اللہ کے سامنے حاضر ہو گا۔ اس دن سب سے بنیادی بات یہ ہو گی کہ آدمی کا عقیدہ توحید پر تھا یا شرک پر۔ اس لیے مسلمان کو اپنی عبادت اور یقین کو اللہ ہی کے لیے رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ سے ملاقات کا دن یقینی ہے۔
- شرک سے پاک عقیدہ جنت کی امید سے جڑا ہے۔
- شرک کے ساتھ اللہ کے سامنے جانا سخت خطرہ ہے۔
- توحید کو زندگی بھر محفوظ رکھنا چاہیے۔
