صحیح مسلم حدیث ۲۷۱ - توحید پر موت کی فضیلت

توحید پر موت کی حدیث: وہی مضمون دوسری سند سے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۱

وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ بِمِثْلِهِ .

جابر روایت:

ایک اور سند سے مروی ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے الفاظ ہی۔

صحیح مسلم حدیث ۲۷۱ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہی مضمون دوسری سند سے بیان ہوا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، وہ جنت میں جائے گا، اور جو شرک کے ساتھ ملے، وہ جہنم میں جائے گا۔ توحید پر موت کی حدیث بار بار یہی یاد دلاتی ہے کہ آخرت میں سب سے بنیادی معاملہ عقیدے کا ہے۔ آدمی کو اپنی عبادت، دعا، امید اور بھروسہ اللہ ہی کے لیے رکھنا چاہیے۔ اس مختصر روایت کا مقصد نئی بات لانا نہیں، بلکہ اسی اہم تعلیم کو دوسری سند سے نقل کرنا ہے تاکہ سننے والے اس بات کو سنجیدگی سے لیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت توحید کے مضمون کو دوسری سند سے نقل کرتی ہے۔
  • شرک سے پاک ایمان جنت کی امید سے متعلق ہے۔
  • شرک آخرت کے لیے سخت خطرہ ہے۔
  • عقیدے کی حفاظت مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں