صحیح مسلم حدیث ۲۶۷ - دل میں رتی برابر تکبر

رتی برابر تکبر کی حدیث: دل کو غرور سے بچائیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں نہ جائے گا، وہ شخص جس کے دل میں رتی برابر غرور ہو۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۶۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں وہ شخص داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رتی برابر تکبر ہو۔ بات مختصر ہے، مگر نصیحت بہت بڑی ہے۔ تکبر صرف بڑے الفاظ یا اونچی آواز کا نام نہیں۔ دل میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنا، حق بات کو نہ ماننا، یا لوگوں کو کم سمجھنا بھی اسی بیماری کی طرف لے جاتا ہے، جیسا کہ اسی مضمون کی دوسری روایت میں تکبر کی وضاحت آئی ہے۔ رتی برابر تکبر کی حدیث انسان کو خاموشی سے اپنے دل کو دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ عبادت، علم، مال، شکل، خاندان یا مقام کسی بھی چیز کی وجہ سے غرور آ جائے تو آدمی کو فوراً اپنے آپ کو سنبھالنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تکبر دل کی خطرناک بیماری ہے۔
  • چھوٹا سا غرور بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
  • جنت کے معاملے میں دل کی پاکی اہم ہے۔
  • آدمی کو اپنے اندر عاجزی پیدا کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں