صحیح مسلم حدیث ۲۶۶ - ایمان اور تکبر کا انجام
ایمان اور تکبر کی حدیث: دل کی حالت کا بڑا معاملہ
صحیح مسلم : ۲۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۶
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، قَالَ مِنْجَابٌ : أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرِيَاءَ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں نہ جائے گا (یعنی ہمیشہ کے لیے) وہ شخص جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو۔ اور جنت میں نہ جائے گا وہ شخص جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر گھمنڈ اور غرور ہو۔ “
صحیح مسلم حدیث ۲۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ جہنم میں نہ جائے گا، یعنی ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گا۔ اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں نہ جائے گا۔ ایمان اور تکبر کی حدیث دل کی کیفیت کو اہم بناتی ہے۔ یہاں ایمان کی تھوڑی مقدار بھی اللہ کے ہاں قدر رکھتی ہے، اور تکبر کی معمولی مقدار بھی انسان کے لیے خطرے کی بات ہے۔ اس حدیث سے آدمی کو اپنے دل کا جائزہ لینے کی نصیحت ملتی ہے: کیا دل میں ایمان، عاجزی اور حق ماننے کا جذبہ ہے، یا خود پسندی اور گھمنڈ آ رہا ہے؟
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دل میں ایمان بہت قیمتی نعمت ہے۔
- تکبر کی چھوٹی مقدار بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔
- ایمان اور تکبر ایک جیسے نہیں، دونوں کا انجام الگ ہے۔
- آدمی کو اپنے دل کی حالت پر نظر رکھنی چاہیے۔
