صحیح مسلم حدیث ۲۶۳ - والدین کو گالی دینے کی ممانعت

والدین کو گالی دینے کی حدیث: زبان کی حفاظت کا سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۳

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ " .

عبداللہ بن عمرو بن عاص روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کبیرہ گناہوں میں سے ہے گالی دینا اپنے ماں باپ کو “، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! کیا کوئی گالی دیتا ہے اپنے ماں باپ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں دیتا ہے، کوئی گالی دیتا ہے دوسرے کے باپ کو پھر وہ گالی دیتا ہے اس کے باپ کو، اور یہ گالی دیتا ہے اس کی ماں کو، وہ گالی دیتا ہے اس کی ماں کو۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو تعجب ہوا کہ کوئی اپنے والدین کو کیسے گالی دے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ آدمی کسی دوسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے، پھر وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ یہ کسی کی ماں کو برا کہتا ہے، تو دوسرا اس کی ماں کو برا کہتا ہے۔ والدین کو گالی دینے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کبھی خود برا لفظ نہیں کہتا، مگر اپنے عمل سے والدین کی بے عزتی کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے زبان سنبھالنا والدین کے ادب کا حصہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دوسروں کے والدین کو برا کہنا اپنے والدین کی بے ادبی کا سبب بن سکتا ہے۔
  • زبان کی بے احتیاطی کبیرہ گناہ تک پہنچا سکتی ہے۔
  • والدین کا احترام صرف براہ راست ادب نہیں، دوسروں سے اچھا برتاؤ بھی ہے۔
  • گالی گلوچ سے بچنا ایک مسلمان کے اخلاق میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں