صحیح مسلم حدیث ۲۶۴ - والدین کی بے ادبی سے بچاؤ
والدین کی بے ادبی سے بچنے کی حدیث: ایک ہی بات دوسری سند سے
صحیح مسلم : ۲۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۴
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
شعبہ اور سفیان دونوں مذکورہ روایت کو ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۴ کا خلاصہ
اس روایت میں شعبہ اور سفیان رحمہما اللہ اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے کے والدین کو گالی دے، پھر جواب میں اس کے اپنے والدین کو گالی دی جائے، تو وہ اپنے ماں باپ کی بے ادبی کا سبب بن گیا۔ والدین کی بے ادبی سے بچنے کی حدیث ہمیں بہت سیدھی بات سمجھاتی ہے کہ زبان کا اثر صرف کہنے والے تک محدود نہیں رہتا۔ ایک غلط لفظ خاندان، عزت اور رشتوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے مسلمان کو گالی دینے، چڑانے اور کسی کے ماں باپ کو برا کہنے سے بچنا چاہیے۔ یہ روایت اسی نصیحت کو مضبوط انداز میں نقل کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسری سند سے آنا حدیث کے مضمون کی نقل کو مضبوط کرتا ہے۔
- والدین کی عزت کا خیال زبان کے استعمال سے بھی رکھا جاتا ہے۔
- گالی کا جواب گالی سے آ سکتا ہے، اس لیے ابتدا ہی سے بچنا چاہیے۔
- مسلمان کو دوسروں کے گھر والوں کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے۔
