صحیح مسلم حدیث ۲۷۴۲ - افضل روزہ صوم داؤد ہے

افضل روزہ کون سا ہے؟ صوم داؤد کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۴۲

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ ، صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور تم کو دوسرے دنوں کا بھی ثواب ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دن روزہ رکھو اور تم کو باقی دنوں کا بھی ثواب ہے۔“ انہوں نے پھر کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن روزہ رکھو اور تم کو باقی دنوں کا ثواب ہے۔“ اور انہوں نے کہا کہ میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار دن روزہ رکھو اور تم کو باقی دنوں کا بھی ثواب ہے۔“ انہوں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب روزوں سے افضل روزہ رکھو اور وہ اللہ کے نزدیک صوم داؤد علیہ السلام ہے کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۷۴۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نفلی روزوں کے بارے میں بہت صاف انداز میں رہنمائی ملتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ایک دن روزہ رکھو، پھر دو دن، پھر تین دن، پھر چار دن کا ذکر ہوا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہر بار عرض کرتے رہے کہ وہ اس سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب روزوں سے افضل روزہ اللہ کے نزدیک صوم داؤد ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دن روزہ رکھا جائے اور ایک دن افطار کیا جائے۔ اس حدیث میں اصل سبق یہ ہے کہ زیادہ کرنے کی خواہش اچھی ہو سکتی ہے، مگر بہترین عمل وہ ہے جس کی حد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • افضل نفلی روزہ صوم داؤد بتایا گیا ہے۔
  • ایک دن روزہ اور ایک دن افطار متوازن طریقہ ہے۔
  • طاقت ہونے کے باوجود نبوی رہنمائی کو ترجیح دینی چاہیے۔
  • نفل عبادت میں حد سے بڑھنے کے بجائے بہتر طریقہ اپنانا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں