صحیح مسلم حدیث ۲۷۴۱ - صوم داؤد اور نفلی روزوں میں اعتدال

صوم داؤد کی حدیث: نفلی روزوں کا متوازن طریقہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۴۱

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَيَّ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، فَقَالَ لِي : " أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ؟ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خَمْسًا " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " سَبْعًا " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " تِسْعًا " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَحَدَ عَشَرَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ ، شَطْرُ الدَّهْرِ ، صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ " .

ابوقلابہ روایت:

ابوقلابہ نے کہا: مجھے خبر دی ابوالملیلح نے کہ میں داخل ہوا تمہارے باپ کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس اور انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے میرے روزوں کا ذکر ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تکیہ ڈالا کہ وہ چمڑے کا تھا۔ اس میں کھجور کا کھوجرا بھرا ہوا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور وہ تکیہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ میں ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو تین روزے ہر ماہ میں کافی نہیں؟۔“میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! (یعنی میں ان سے زیادہ قوی ہوں) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ سہی۔ ”میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! (یعنی میں ان سے زیادہ قوی ہوں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیارہ۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”داؤد علیہ السلام کے روزے کے برابر کوئی روزہ نہیں کہ وہ آدھے ایام روزہ رکھتے تھے اس طرح کہ ایک دن روزہ ہوتا ایک دن افطار ہوتا۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۷۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع صوم داؤد اور نفلی روزوں میں اعتدال ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے روزوں کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہر ماہ تین روزوں کو کافی فرمایا، پھر پانچ، سات، نو اور گیارہ تک بات پہنچی۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ داؤد علیہ السلام کے روزے سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں، یعنی ایک دن روزہ رکھا جائے اور ایک دن افطار کیا جائے۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ نفلی روزہ نیکی ہے، مگر مسلسل سختی کے بجائے ایسا طریقہ بہتر ہے جس میں عبادت بھی ہو اور جسم پر غیر ضروری بوجھ بھی نہ پڑے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نفلی روزوں میں آسان اور مستقل طریقہ اختیار کرنا بہتر ہے۔
  • ہر ماہ تین روزے بھی کافی اور پسندیدہ عمل کے طور پر بیان ہوئے۔
  • صوم داؤد کا طریقہ ایک دن روزہ اور ایک دن افطار ہے۔
  • عبادت میں اپنی طاقت کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں