صحیح مسلم حدیث ۲۷۴۳ - روزہ، قیام اور حقوق میں توازن
روزہ اور عبادت میں اعتدال: بدن اور گھر والوں کے حقوق
صحیح مسلم : ۲۷۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۴۳
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ جميعا ، عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ ، فَلَا تَفْعَلْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَظًّا ، وَلِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا ، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَظًّا ، صُمْ وَأَفْطِرْ ، صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بِي قُوَّةً ، قَالَ : " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، صُمْ يَوْمًا ، وَأَفْطِرْ يَوْمًا " ، فَكَانَ يَقُولُ : يَا لَيْتَنِي أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ .
عبداللہ بن عمرو روایت:
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم ہمیشہ روزے رکھتے ہو دن کو اور ساری رات جاگتے ہو۔ سو ایسا نہ کرو اس لیے کہ تمہارے بدن کا تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھ کا بھی حصہ ہے اور تمہاری بیوی کا تم پر حصہ ہے تم روزہ رکھو اور افطار کرو اور روزہ رکھو تین دن ہر ماہ میں، سو یہی ہمیشہ کا روزہ ہے۔“ (یعنی ثواب کی رو سے) میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے قوت اس سے زیادہ ہے تو فرمایا: ”روزہ رکھو تم داؤد علیہ السلام کا ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو۔“ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ آخر عمر میں کہتے تھے کہ کاش میں رخصت قبول کرتا تو خوب ہوتا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۷۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں روزہ، رات کے قیام اور گھر کے حقوق کے بارے میں بہت اہم بات آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ دن کو ہمیشہ روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر قیام کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھ کا بھی حق ہے، اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ماہ تین روزوں کی رہنمائی فرمائی اور بتایا کہ ثواب کے لحاظ سے یہ ہمیشہ کے روزے جیسا ہے۔ جب انہوں نے زیادہ طاقت کا ذکر کیا تو صوم داؤد بتایا گیا۔ آخر عمر میں ان کا کہنا کہ کاش رخصت قبول کر لیتا، عبادت میں آسانی کی قدر سمجھاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبادت کے ساتھ جسم اور آرام کا حق بھی ادا کرنا چاہیے۔
- بیوی اور گھر کے حق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- ہر ماہ تین روزے ثواب کے لحاظ سے بڑی فضیلت رکھتے ہیں۔
- رخصت اور آسانی قبول کرنا بھی اچھی بات ہو سکتی ہے۔
