صحیح مسلم حدیث ۲۷۴۵ - مہینے کے بیچ کے روزے

مہینے کے بیچ کے روزے اور دو روزوں کی رہنمائی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۴۵

وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ أَوَ قَالَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ : " يَا فُلَانُ أَصُمْتَ مِنْ سُرَّةِ هَذَا الشَّهْرِ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ " .

عمران بن حصین روایت:

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اور کسی سے فرمایا اور یہ سنتے تھے غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تم نے اس ماہ کے بیچ میں روزے رکھے؟۔“ انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جب تم افطار کرو تو دو روز اور روزہ رکھو۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۷۴۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا کہ کیا تم نے اس ماہ کے بیچ میں روزے رکھے؟ اس شخص نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم افطار کرو تو دو دن روزہ رکھو۔ اس روایت کا اصل موضوع مہینے کے بیچ کے روزے اور ان کے بدلے دو روزوں کی رہنمائی ہے۔ حدیث میں زیادہ تفصیل نہیں آئی، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ ایک خاص موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا اور جواب کے بعد دو روزے رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ نفلی روزوں کے بارے میں سوال و جواب کے ذریعے صحابہ رضی اللہ عنہم کو عملی رہنمائی دی جاتی تھی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کے بیچ کے روزوں کے بارے میں پوچھا۔
  • نہ رکھنے کی صورت میں دو روزے رکھنے کی رہنمائی دی گئی۔
  • نفلی روزوں میں بھی نبوی ہدایت کو اہم سمجھنا چاہیے۔
  • حدیث کی بات کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جس حد تک متن میں بیان ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں