صحیح مسلم حدیث ۲۷۵۱ - شعبان کے روزے
شعبان کے روزے اور دو دن روزہ رکھنے کی ہدایت
صحیح مسلم : ۲۷۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۵۱
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ وَلَمْ أَفْهَمْ مُطَرِّفًا مِنْ هَدَّابٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِآخَرَ : " أَصُمْتَ مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ " .
عمران حصین روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم نے شعبان کے اول میں کچھ روزے رکھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم افطار کے دن تمام کر لو تو دو دن روزے رکھو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۷۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا کسی دوسرے شخص سے فرمایا کہ کیا تم نے شعبان کے اول میں کچھ روزے رکھے؟ اس نے کہا: نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم افطار کے دن تمام کر لو تو دو دن روزے رکھو۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع شعبان کے روزے ہیں۔ یہاں بات بہت محدود اور خاص ہے، اس لیے اسے عام قاعدہ بنا کر اپنی طرف سے تفصیل نہیں بڑھانی چاہیے۔ حدیث کے الفاظ سے اتنا سمجھ آتا ہے کہ شعبان کے کچھ روزوں کے بارے میں پوچھا گیا، جواب نفی میں آیا، پھر رمضان کے بعد یا افطار کے دن مکمل ہونے کے بعد دو روزے رکھنے کی رہنمائی دی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شعبان کے روزوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال فرمایا۔
- نہ رکھنے کی صورت میں دو روزے رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
- حدیث کا مضمون خاص موقع سے متعلق ہے۔
- شعبان کے روزوں کا ذکر متن میں صاف موجود ہے۔
