صحیح مسلم حدیث ۲۷۵۰ - پیر کے روزے کی فضیلت

پیر کے روزے کی فضیلت: ولادت اور نزول وحی کا دن

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۵۰

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ غَيْلَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ " ، فَقَالَ : " فِيهِ وُلِدْتُ ، وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ " .

ابوقتادہ روایت:

رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا دوشنبہ کے روزہ کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس دن پیدا ہوا ہوں اور اسی دن مجھ پر وحی اتری ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۷۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اسی دن پیدا ہوا ہوں اور اسی دن مجھ پر وحی اتری ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع پیر کا روزہ ہے۔ حدیث میں پیر کے روزے کی وجہ صاف بیان ہوئی ہے، اس لیے اس کو اسی انداز میں سمجھنا چاہیے۔ یہاں رمضان، شوال یا محرم کے روزوں کی بات نہیں، بلکہ خاص طور پر صوم الاثنين یعنی پیر کے روزے کا سوال اور جواب ہے۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر کے دن کو اپنی ولادت اور وحی کے نزول سے نسبت دی، اسی لیے اس دن کے روزے کی اہمیت بیان ہوئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پیر کے روزے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ولادت کا دن پیر بتایا۔
  • وحی کے نزول کی نسبت بھی پیر کے دن سے بیان ہوئی۔
  • حدیث میں جس سبب کا ذکر ہے اسی کو بیان کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں