حدیث ۲۷۴۷

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۴۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ واللفظ لابن المثنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ ، قَالَ : " فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً ، قَالَ : فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ ، فَقَالَ : " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ ، أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ " ، قَالَ : فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ ، قَالَ : " وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ " ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ ، قَالَ : " لَيْتَ أَنَّ اللَّهَ قَوَّانَا لِذَلِكَ " ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ ، قَالَ : " ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام " ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ ، قَالَ : " ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ " ، قَالَ : فَقَالَ : " صَوْمُ ثَلَاثَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ " ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ ، فَقَالَ : " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ " ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ : " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ " ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ، فَسَكَتْنَا عَنْ ذِكْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نُرَاهُ وَهْمًا ،

‏‏‏‏ سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون مروی ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کو پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہی عرض کیا جو اوپر مذکور ہوا «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً» اور اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ”راضی ہوئے ہم اپنی بیعت سے کہ وہی بیعت ہے“ اور سوال ہوا صیام الدہر کا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا۔“ پھر سوال ہوا دو دن روزے اور ایک روز افطار سے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طاقت کسے ہے۔“ پھر سوال ہوا ایک دن روزہ اور دو دن افطار سے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش! اللہ تعالیٰ ہم کو ایسی قوت دے۔“ اور سوال ہوا ایک دن افطار ایک روزہ سے، تو فرمایا: ”یہ میرے بھائی داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ اور سوال ہوا دوشنبہ کے روزہ کا فرمایا: ”میں اسی دن پیدا ہوا ہوں اور اسی دن نبی ہوا ہوں۔“ یا فرمایا: ”اسی دن مجھ پر وحی اتری ہے۔“ اور فرمایا: ”رمضان کے روزے اور ہر ماہ تین روزے یہ وحی اتری ہے۔“ اور فرمایا: ”رمضان کے روزے اور ہر ماہ تین روزے یہ صوم الدہر ہے۔“ اور عرفہ کے روزہ کو پوچھا: تو فرمایا: ”ایک سال گزرا ہوا ایک سال آگے آنے والے کا کفارہ ہے۔“ اور عاشورے کے روزے کو پوچھا: تو فرمایا: ”ایک سال گزرے ہوئے کا کفارہ ہے۔“ مسلم نے فرمایا: اسی حدیث میں شعبہ کی روایت میں ہے کہ پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوشنبہ اور پنج شنبہ کے روزے کو تو ہم نے پنج شنبہ کا ذکر نہیں کیا اس لیے کہ اس میں وہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں