صحیح مسلم حدیث ۲۷۵۲ - شعبان کے آخر کے روزے

شعبان کے آخر کے روزے: رمضان کے بعد دو روزوں کی ہدایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۵۲

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : " هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا ؟ " ، قَالَ : لَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِذَا أَفْطَرْتَ مِنْ رَمَضَانَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ مَكَانَهُ " .

عمران بن حصین روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تم نے اس مہینے کے آخر میں روزے رکھے؟“ (یعنی شعبان میں) اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رمضان کے روزوں سے فارغ ہو تو دو روزے رکھ لو اس کے عوض میں۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۷۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا کہ کیا تم نے اس مہینے کے آخر میں کچھ روزے رکھے؟ ترجمہ میں وضاحت ہے کہ مراد شعبان ہے۔ اس شخص نے کہا: نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم رمضان کے روزوں سے فارغ ہو جاؤ تو اس کے عوض دو روزے رکھ لو۔ اس روایت میں شعبان کے آخر کے روزے اور رمضان کے بعد دو روزوں کا ذکر ہے۔ بات کو اسی متن تک رکھنا ضروری ہے، کیونکہ حدیث میں یہی سوال و جواب آیا ہے۔ اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو نفلی روزوں کے بارے میں عملی انداز سے رہنمائی دیتے تھے، اور بعض مواقع پر چھوٹ جانے والے عمل کے بدلے روزے رکھنے کی ہدایت فرماتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شعبان کے آخر کے روزوں کے بارے میں سوال ہوا۔
  • نہ رکھنے پر رمضان کے بعد دو روزے رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
  • نفلی اعمال میں نبوی رہنمائی کو سامنے رکھنا چاہیے۔
  • حدیث میں بیان شدہ الفاظ سے آگے دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں