صحیح مسلم حدیث ۲۷۵ - لا الہ الا اللہ کہنے والے کی جان

لا الہ الا اللہ کہنے والے کی جان: جنگ میں احتیاط کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۵

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، أَمَّا الأَوْزَاعِيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ فَفِي حَدِيثِهِمَا ، قَالَ : أَسْلَمْتُ لِلَّهِ ، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ ، وَأَمَّا مَعْمَرٌ فَفِي حَدِيثِهِ : فَلَمَّا أَهْوَيْتُ لِأَقْتُلَهُ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .

‏‏‏‏ دوسری روایت بھی ایسی ہی ہے، اس میں یہ ہے کہ وہ کہے: اسلام لایا میں اللہ کے لئے اور معمر کی روایت میں کہ جب میں جھکوں اس کے قتل کے لئے تو وہ کہے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ۔

صحیح مسلم حدیث ۲۷۵ کا خلاصہ

اس روایت میں وہی مضمون دوسری سندوں سے بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں الفاظ ہیں کہ وہ کہے: میں اللہ کے لیے اسلام لایا۔ معمر کی روایت میں یہ ہے کہ جب میں اسے قتل کرنے کے لیے جھکا تو اس نے لا الہ الا اللہ کہا۔ لا الہ الا اللہ کہنے والے کی جان والی حدیث بہت واضح سبق دیتی ہے کہ کلمہ سننے کے بعد جلدی، غصہ یا شک کی بنیاد پر قتل کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ کا ماحول سخت ہوتا ہے، مگر اس سخت ماحول میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ کے ظاہر کو وزن دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو جان کے معاملے میں بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل سے رکنا لازم ہے۔
  • جنگ کی سختی میں بھی جان کا معاملہ محتاط ہے۔
  • کلمہ کے ظاہر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
  • شک کی بنیاد پر کسی کی جان لینا درست نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں