صحیح مسلم حدیث ۲۷۶ - اسلام قبول کرنے والے کی حفاظت
اسلام قبول کرنے والے کی حفاظت: مقداد رضی اللہ عنہ کی روایت
صحیح مسلم : ۲۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۶
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ِ أَخْبَرَهُ ، أَنّ َ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الأَسْوَدِ الْكِنْدِيَّ ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ ؟ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ .
مقداد بن عمرو بن اسود کندی روایت:
سیدنا مقداد بن عمرو بن اسود کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ حلیف تھے بنی زہرہ کے (یعنی ان کی امان میں آئے تھے اور ان سے عہد کر چکے تھے) اور بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کیا سمجھتے ہیں۔ اگر میں بھڑوں ایک کافر سے۔ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری۔
صحیح مسلم حدیث ۲۷۶ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا مقداد بن عمرو بن اسود کندی رضی اللہ عنہ کا وہی سوال دوسری سند سے بیان ہوا ہے۔ وہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر ایک کافر لڑائی میں مقابل آئے، پھر وہی واقعہ پیش آئے جس میں ہاتھ کاٹنے کے بعد وہ اسلام کا اظہار کرے، تو کیا اسے قتل کیا جائے؟ پچھلی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ اسلام قبول کرنے والے کی حفاظت والی حدیث یہ بتاتی ہے کہ مسلمان کو جان کے معاملے میں اپنے غصے یا بدلے کے جذبے سے اوپر رہنا چاہیے۔ جب کوئی اسلام کا اظہار کرے تو اس کے ظاہر کو مانا جائے اور قتل سے رک جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام کا اظہار جان کی حفاظت کا سبب بنتا ہے۔
- بدلے کا جذبہ شرعی احتیاط کو ختم نہیں کر سکتا۔
- سخت حالات میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو ماننا ضروری ہے۔
- یہ روایت پچھلے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔
