صحیح مسلم حدیث ۲۷۴ - کلمہ کہنے والے کو قتل نہ کرو
کلمہ کہنے والے کو قتل نہ کرو: مقداد رضی اللہ عنہ کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۷۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۴
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي ، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ ، فَقَالَ : أَسْلَمْتُ لِلَّهِ ، أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقْتُلْهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي ، ثُمَّ قَالَ : ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا ، أَفَأَقْتُلُهُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقْتُلْهُ ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ " .
مقداد بن اسود روایت:
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر میں ایک کافر سے بھڑوں وہ مجھ سے لڑے اور میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ ڈالے پھر مجھ سے بچ کر ایک درخت کی آڑ لے اور کہنے لگے: میں تابع ہو گیا اللہ کا، کیا میں اس کو قتل کروں جب وہ کہہ چکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت قتل کر اس کو۔“ میں نے کہا، یا رسول اللہ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ ڈالا پھر ایسا کہنے لگا۔ کیا میں اس کو قتل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت قتل کر اس کو (اگرچہ تجھ کو اس سے صدمہ پہنچا اور زخم لگا) اگر تو اس کو قتل کرے گا اس کا حال تیرا سا ہو گا قتل سے پہلے اور تیرا حال اس کا سا ہو گا جب تک اس نے کلمہ نہیں کہا تھا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ایک کافر لڑتے ہوئے میرا ہاتھ کاٹ دے، پھر درخت کی آڑ لے کر کہے کہ میں اللہ کے لیے اسلام لایا، تو کیا اسے قتل کیا جا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے دوبارہ اپنے زخم کا ذکر کیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منع فرمایا۔ کلمہ کہنے والے کو قتل نہ کرو والی حدیث بتاتی ہے کہ سخت غصے، زخم اور جنگ کی حالت میں بھی اسلام کے اظہار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی کے دل کا حال اللہ جانتا ہے، بندے کو ظاہر بات کے مطابق رکنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام کا اظہار کرنے والے کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
- ذاتی زخم اور غصہ حکم کو بدل نہیں دیتے۔
- ظاہر کلمہ کا احترام کرنا ضروری ہے۔
- دل کا اصل حال اللہ جانتا ہے۔
