صحیح مسلم حدیث ۲۷۳ - لا الہ الا اللہ پر موت
لا الہ الا اللہ کی حدیث: توحید پر مرنے والے کے لیے جنت
صحیح مسلم : ۲۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۳
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ ، عَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قُلْتُ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ : عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ : وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ " .
ابوذر روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے، ایک سفید کپڑا اوڑھے ہوئے، پھر میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے، پھر میں آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگتے تھے۔ میں بیٹھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہے پھر مر جائے گا اسی اعتقاد پر (یعنی توحید پر) تو وہ جنت میں جائے گا۔“ میں نے کہا اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے؟ تین بار۔ ایسا ہی فرمایا چوتھی بار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ ابوذر کی ناک میں خاک لگے “، پھر نکلے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ اور وہ کہتے تھے: اگرچہ ابوذر کی ناک میں خاک لگے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ لا الہ الا اللہ کہے، پھر اسی عقیدے پر مر جائے، وہ جنت میں جائے گا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے بار بار پوچھا کہ اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار فرمایا کہ اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے، پھر چوتھی بار فرمایا: اگرچہ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ لا الہ الا اللہ کی حدیث توحید کی عظمت بتاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ زنا اور چوری گناہ ہیں؛ حدیث کا مقصد گناہ کی اجازت دینا نہیں، بلکہ توحید پر موت کی فضیلت بیان کرنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لا الہ الا اللہ پر ثابت رہنا جنت کی امید سے متعلق ہے۔
- توحید کی فضیلت بہت بڑی ہے۔
- گناہوں کو گناہ ہی سمجھنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر رضی اللہ عنہ کے سوال کا واضح جواب دیا۔
