صحیح مسلم حدیث ۲۷۹۵ - عرفات کے خطبہ میں لباس کی رخصت
عرفات میں خطبہ اور محرم کے لباس کی رخصت
صحیح مسلم : ۲۷۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۹۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۷۹۵ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں ذکر ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے وہی بات فرمائی: جو تہبند نہ پائے وہ پاجامہ پہن لے، اور جو نعلین نہ پائے وہ موزے پہن لے۔ اس روایت کا اصل فائدہ یہ ہے کہ وہی حکم ایک اور سند سے آتا ہے، اور اس میں عرفات کے خطبہ کا ذکر بھی شامل ہے۔ احرام میں پاجامہ، محرم کے موزے، اور عرفات خطبہ حدیث جیسے الفاظ اس حدیث کے لیے مناسب سرچ اصطلاحات ہیں۔ یہاں بھی بات ضرورت کے ساتھ ہے، یعنی لباس نہ ملنے کی صورت۔ حدیث کا متن مختصر ہے، اس لیے شرح بھی اسی دائرے میں رہتی ہے کہ محرم کے لیے مشکل میں آسانی بیان کی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- عرفات میں خطبہ کا ذکر اس سند میں آیا ہے۔
- رخصت ضرورت کی صورت میں بیان ہوئی ہے: تہبند یا نعلین نہ ملنے پر۔
