صحیح مسلم حدیث ۲۷۹۷ - نعلین نہ ہوں تو موزے، ازار نہ ہو تو پاجامہ
احرام میں ضرورت کی آسانی: موزے اور پاجامہ
صحیح مسلم : ۲۷۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۹۷
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ " .
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نعلین نہ پائے، موزے پہنے اور جو ازار یعنی تہبند نہ پائے وہ سراویل یعنی پاجامہ پہنے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۷۹۷ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر مگر بہت واضح ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو نعلین نہ پائے وہ موزے پہن لے، اور جو ازار یعنی تہبند نہ پائے وہ پاجامہ پہن لے۔ اس روایت میں محرم کے لباس کی ضرورت والی صورت سامنے آتی ہے۔ احرام میں عام طور پر تہبند اور چپل کا ذکر ہوتا ہے، مگر اگر یہ چیزیں دستیاب نہ ہوں تو حدیث میں متبادل بیان کیا گیا ہے۔ احرام میں موزے، احرام میں پاجامہ، اور محرم کے لباس کی رخصت جیسے سرچ الفاظ اس حدیث کے لیے موزوں ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ حدیث میں یہ اجازت عدم دستیابی کے ساتھ جڑی ہے۔ اس لیے اسے سہولت کی روایت سمجھا جائے، مگر الفاظ کی شرط کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نعلین نہ ملنے پر موزے پہننے کا ذکر ہے۔
- ازار نہ ملنے پر پاجامہ پہننے کا ذکر ہے۔
- حدیث ضرورت کی حالت میں آسانی بیان کرتی ہے۔
