صحیح مسلم حدیث ۲۷۹۸ - عمرہ میں احرام اور خوشبو کا حکم
عمرہ کے احرام میں خوشبو اور جبہ: نبی صلى الله عليه وسلم کی رہنمائی
صحیح مسلم : ۲۷۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۹۸
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهَا خَلُوقٌ ، أَوَ قَالَ : أَثَرُ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي ؟ ، قَالَ : وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ ، فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَكَانَ يَعْلَى ، يَقُولُ : وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، قَالَ : فَقَالَ : أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، قَالَ : فَرَفَعَ عُمَرُ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ ، لَهُ غَطِيطٌ ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : كَغَطِيطِ الْبَكْرِ ، قَالَ : فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ ؟ اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ ، أَوَ قَالَ : أَثَرَ الْخَلُوقِ ، وَاخْلَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا أَنْتَ صَانِعٌ فِي حَجِّكَ " .
یعلیٰ روایت:
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے اور وہ ایک جبہ پہنے ہوئے تھا اور اس پر کچھ خوشبو لگی ہوئی تھی یا کہا کہ کچھ اثر زردی کا تھا اور اس نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عمرے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ اور اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترنے لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا اوڑھ لیا اور یعلیٰ کہتے تھے کہ مجھے آرزو تھی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھوں جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی ہو، پھر کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہ کیا تم چاہتے ہو کہ دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی ہو، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کپڑے کا کونہ اٹھا دیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہانپتے اور خراٹے لیتے تھے۔راوی نے کہا: میں گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے کہا: جیسے جوان اونٹ ہانپتا ہو پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی تمام ہو چکی تو فرمایا: ”کہاں ہے وہ سائل عمرہ کا۔“ اور فرمایا: ”دھو ڈالو اثر زردی کا اپنے کپڑے وغیرہ سے۔ یا فرمایا: ”اثر خوشبو وغیرہ کا اور اتار ڈالو اپنا کرتہ اور عمرہ میں وہی کرو جو حج میں کرتے ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۷۹۸ کا خلاصہ
یہ حدیث عمرہ کے احرام سے متعلق ایک واقعہ بیان کرتی ہے۔ سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق ایک شخص نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس جعرانہ میں آیا۔ اس نے جبہ پہن رکھا تھا اور اس پر خوشبو یا زردی کا اثر تھا۔ اس نے پوچھا کہ عمرہ میں کیا کرے۔ اسی دوران آپ صلى الله عليه وسلم پر وحی نازل ہوئی۔ وحی ختم ہونے کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے اس سائل کو بلایا اور فرمایا کہ زردی یا خوشبو کا اثر دھو ڈالو، اپنا جبہ اتار دو، اور عمرہ میں وہی کرو جو حج میں کرتے ہو۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع عمرہ کا احرام، خوشبو، اور سلا ہوا کپڑا ہے۔ عمرہ احرام خوشبو حدیث، جبہ اتارنے کی حدیث، اور حج و عمرہ احرام کے احکام جیسے الفاظ اسی روایت سے جڑے ہیں۔ شرح میں بس اتنی بات کافی ہے کہ سائل کی حالت کے مطابق اسے کپڑا اتارنے اور خوشبو دھونے کا حکم دیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمرہ کے احرام میں خوشبو یا زردی کا اثر دھونے کا حکم آیا۔
- جبہ اتارنے کا حکم اسی سائل کی حالت میں بیان ہوا۔
- عمرہ میں حج جیسے احرام کے عمل کا ذکر حدیث میں موجود ہے۔
