صحیح مسلم حدیث ۲۸۶۳ - حرم میں پانچ جانوروں کا حکم
حرم میں بچھو، چوہا اور کٹ کھنے کتے کا حکم
صحیح مسلم : ۲۸۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۶۳
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ : الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حرم میں ایذا دینے والے جانوروں کا ذکر ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ فاسق جانور حرم میں قتل کیے جاتے ہیں۔ اس روایت میں بچھو، چوہا، چیل، کوا اور کٹ کھنا کتا بیان ہوئے ہیں۔ یہاں خاص طور پر لفظ حرم آیا ہے، اس لیے یہ حدیث ان لوگوں کے لیے بہت مفید ہے جو حج یا عمرہ کے دوران یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حرم میں کون سے جانور مارے جا سکتے ہیں۔ عام طور پر حرم کا ادب اور جانوروں کے بارے میں احتیاط ذہن میں رہتی ہے، مگر اس حدیث میں چند ایذا دینے والے جانوروں کے لیے الگ حکم بتایا گیا ہے۔ بات کو بڑھائے بغیر، حدیث کا سادہ مطلب یہ ہے کہ مذکورہ جانور نقصان دہ قسم میں ہیں اور حرم میں بھی ان کے قتل کی اجازت بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حرم میں بھی بعض مخصوص ایذا دینے والے جانوروں کا حکم الگ ہے۔
- اس روایت میں بچھو، چوہا، چیل، کوا اور کٹ کھنا کتا مذکور ہیں۔
- حج و عمرہ میں مسائل پوچھتے وقت حدیث کے الفاظ کو سامنے رکھنا چاہیے۔
- حدیث میں نقصان دینے والے جانوروں سے بچاؤ کا عملی پہلو موجود ہے۔
