صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۱ - حجۃ الوداع میں احرام کی صورتیں
حجۃ الوداع میں احرام کی اقسام: عمرہ، حج اور ہدی
صحیح مسلم : ۲۹۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۱۱
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ ، حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ ، وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ ، وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى ، فَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيَهُ ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ ، وَأُهِلَّ بِحَجٍّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ " ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا قَضَيْتُ حَجَّتِي ، بَعَثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي ، الَّتِي أَدْرَكَنِي الْحَجُّ وَلَمْ أَحْلِلْ مِنْهَا " .
عائشہ روایت:
نکلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ الوداع میں اور کسی نے عمرہ کا، کسی نے حج کا اہلال کیا جب مکہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عمرہ کا اہلال کیا اور قربانی نہیں لایا وہ احرام کھول ڈالے اور جس نے عمرہ کا احرام کیا اور قربانی لایا وہ نہ کھولے جب تک قربانی نحر نہ کر لے اور جس نے حج کا اہلال کیا وہ حج پورا کرے۔“سيده عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے حیض ہو گیا اور میں عرفہ کے دن تک حائضہ رہی اور میں نے عمرہ کا اہلال کیا تھا پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”چوٹی کھول ڈالو، کنگھی کرو اور حج کا اہلال کرو عمرہ چھوڑ دو۔“ میں نے ایسا ہی کیا جب حج کر چکے تو میرے ساتھ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ میں تنعیم سے عمرہ لاؤں وہ عمرہ جس کو میں نے پورا نہیں کیا تھا اور حج کا احرام باندھ لیا تھا اس کا احرام کھولنے کے قبل۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں کچھ لوگوں نے عمرہ کا اہلال کیا، کچھ نے حج کا۔ مکہ پہنچنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا اور ہدی نہیں لایا، وہ احرام کھول دے۔ جس نے عمرہ کا احرام باندھا اور ہدی لایا، وہ قربانی کرنے تک احرام نہ کھولے۔ اور جس نے حج کا اہلال کیا، وہ حج پورا کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا اور وہ عرفہ کے دن تک حائضہ رہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر کھولنے، کنگھی کرنے، حج کا اہلال کرنے اور عمرہ چھوڑنے کا حکم دیا۔ پھر حج کے بعد عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم سے عمرہ کرایا۔ یہ حدیث حج کے احرام، عمرہ، ہدی اور حائضہ عورت کے حج کے بارے میں صاف رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہدی لانے اور نہ لانے والوں کے احرام کے حکم میں فرق بیان کیا گیا۔
- حائضہ ہونے کی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حج کا اہلال کرنے کا حکم دیا گیا۔
- حج کے بعد تنعیم سے عمرہ ان کے چھوٹے ہوئے عمرہ کی جگہ تھا۔
- حج کے سفر میں مسئلہ پیش آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق عمل کیا گیا۔
