حدیث ۲۹۱۲

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۱۲

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " ، قَالَتْ : فَحِضْتُ فَلَمَّا دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ : إِنِّي كُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ، فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي ؟ ، قَالَ : " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي ، وَأَمْسِكِي عَنِ الْعُمْرَةِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " ، قَالَتْ : فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجَّتِي أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي ، فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَمْسَكْتُ عَنْهَا .

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نکلے ہم حجتہ الواداع میں اور میں نے عمرہ کا اہلال کیا اور ہدی نہیں لائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ ہدی ہو وہ حج و عمرہ دونوں کا اہلال کرے اور احرام نہ کھولے جب تک دونوں سے فارغ نہ ہو۔“ اور میں حائضہ ہو گئی پھر جب شب عرفہ ہوئی تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے عمرہ کا اہلال کیا تھا تو اب حج کیوں کر کروں؟ فرمایا: ”سر کھول ڈالو، کنگھی کرو عمرہ کے افعال سے باز رہو، حج کا اہلال کرو۔“ پھر جب میں حج کر چکی، عبدالرحمٰن کو حکم فرمایا وہ مجھے پیچھے بٹھا لے گئے یعنی اونٹ پر اور عمرہ کروا لائے اس عمرہ کی جگہ جس کی بجا آوری افعال سے میں باز رہی تھی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں