صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۶ - حج و عمرہ کی تکمیل
عائشہ رضی اللہ عنہا کا حج و عمرہ: فدیہ لازم نہ ہونے کا بیان
صحیح مسلم : ۲۹۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۱۶
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ ، مِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ ، فَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا ، وقَالَ فِيهِ : قَالَ عُرْوَةُ فِي ذَلِكَ : إِنَّهُ قَضَى اللَّهُ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا ، قَالَ هِشَامٌ : وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صِيَامٌ وَلَا صَدَقَةٌ .
اس حدیث کا مضمون وہی ہے جو اوپر گزرا۔ عروہ کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حج پورا کیا اور ہشام کی روایت میں ہے کہ اس میں کوئی قربانی، روزہ یا صدقہ واجب نہیں ہوا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجۃ الوداع کے واقعے کا وہی مضمون بیان ہوا ہے جو پہلے گزرا۔ روایت میں آتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذی الحجہ کے چاند کے قریب نکلے۔ ہم میں سے بعض نے عمرہ کا، بعض نے حج اور عمرہ دونوں کا، اور بعض نے حج کا اہلال کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان لوگوں میں تھیں جنہوں نے عمرہ کا اہلال کیا تھا۔ آگے روایت میں پہلے والی تفصیل کے قریب بیان ہے۔ عروہ کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حج اور عمرہ پورا کر دیا۔ ہشام کی روایت میں ہے کہ اس میں قربانی، روزہ یا صدقہ لازم نہیں ہوا۔ اس حدیث کا موضوع حائضہ عورت کا حج، عمرہ کا بدل، اور فدیہ لازم نہ ہونے کا مسئلہ ہے۔ بات کو روایت کے الفاظ تک محدود رکھنا چاہیے، کیونکہ یہی اس حدیث کی اصل تعلیم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حج اور عمرہ مکمل ہو گیا۔
- روایت میں قربانی، روزہ یا صدقہ لازم نہ ہونے کا ذکر ہے۔
- حجۃ الوداع میں مختلف لوگوں نے مختلف صورتوں میں اہلال کیا۔
- حیض کی حالت میں پیش آنے والے مسئلے کا حل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی سے ہوا۔
