صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۷ - عمرہ والے اور قارن کا حکم
عمرہ، حج اور قِران: نحر کے دن تک احرام کا حکم
صحیح مسلم : ۲۹۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۱۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ، وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ ، وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا ، حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ " .
وہی مضمون ہے آخر میں یہ ہے کہ جس نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج و عمرہ دونوں کا انہوں نے احرام نہیں کھولا مگر نحر کا دن ہوا (یعنی دسویں تاریخ ذوالحجہ کی)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے۔ ہم میں سے بعض نے عمرہ کا اہلال کیا، بعض نے حج اور عمرہ دونوں کا، اور بعض نے حج کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا اہلال کیا۔ پھر بیان ہوا کہ جس نے عمرہ کا اہلال کیا وہ حلال ہو گیا، یعنی عمرہ کے بعد احرام کھول دیا۔ لیکن جس نے حج کا احرام باندھا یا حج اور عمرہ دونوں کو جمع کیا، وہ نحر کے دن تک حلال نہیں ہوئے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع احرام کی اقسام اور احرام کھولنے کا وقت ہے۔ یہ روایت حج، عمرہ، قِران، اور یوم النحر کے مسئلے کو صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں خاص طور پر یہ فرق سمجھ آتا ہے کہ صرف عمرہ والے اور حج یا حج و عمرہ والے ایک جیسے نہیں تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حجۃ الوداع میں عمرہ، حج، اور حج و عمرہ دونوں کی صورتیں موجود تھیں۔
- صرف عمرہ کا اہلال کرنے والوں نے عمرہ کے بعد احرام کھول دیا۔
- حج یا حج و عمرہ جمع کرنے والے نحر کے دن تک احرام میں رہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حج کا اہلال کیا۔
