صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۸ - حائضہ عورت کا حج

حائضہ عورت کا حج: طواف کے سوا باقی کام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۱۸

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا حِضْتُ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : " أَنَفِسْتِ " يَعْنِي الْحَيْضَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَغْتَسِلِي " ، قَالَتْ : وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ .

عائشہ روایت:

ہم نکلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور خیال کرتے تھے مگر حج کا (اس لیے عمرہ، ایام حج میں برا جانتے تھے جہالت کے دونوں میں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال کو مٹایا) جب سرف میں آئی میں حائضہ ہو گئی اور رونے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر پوچھا: ”کیا تم کو حیض ہوا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو آدم کی بیٹیوں کے لیے اللہ نے لکھ دیا ہے سو اب تم حج کے کام کرو سوائے طواف کے کہ وہ غسل کے بعد کرنا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں کی طرف سے قربانی کی گائے کی۔

صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمیں حج ہی کا خیال تھا۔ جب ہم سرف یا اس کے قریب پہنچے تو مجھے حیض آ گیا اور میں رونے لگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا کہ کیا تمہیں حیض ہوا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چیز اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دی ہے، اس لیے تم حاجی کے کام کرو، مگر بیت اللہ کا طواف نہ کرو جب تک غسل نہ کر لو۔ اس حدیث کا اصل موضوع حائضہ عورت کا حج ہے۔ اس میں تسلی بھی ہے اور عملی حکم بھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کو عیب یا حج سے مکمل رکاوٹ نہیں بتایا، بلکہ صرف طواف کو غسل کے بعد کرنے کی ہدایت دی۔ آخر میں آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حیض عورتوں کے لیے اللہ کا لکھا ہوا معاملہ بتایا گیا۔
  • حائضہ عورت حاجی کے کام کر سکتی ہے، مگر طواف غسل کے بعد کرے گی۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو رونے پر تسلی دی۔
  • حدیث میں طواف بیت اللہ کو پاکی کے بعد کرنے کی ہدایت آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں