صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۹ - حیض، حج اور تنعیم سے عمرہ
حیض میں حج کی مکمل رہنمائی: عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ
صحیح مسلم : ۲۹۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۱۹
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى جِئْنَا سَرِفَ ، فَطَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ " ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ خَرَجْتُ الْعَامَ ، قَالَ : " مَا لَكِ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ، افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي " ، قَالَتْ : فَلَمَّا قَدِمْتُ مَكَّةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : " اجْعَلُوهَا عُمْرَةً " ، فَأَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ ، قَالَتْ : فَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ ، ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا ، قَالَتْ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهَرْتُ ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَضْتُ ، قَالَتْ : فَأُتِيَنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ ، فَقَالُوا : أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ ، قَالَتْ : " فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَرْدَفَنِي عَلَى جَمَلِهِ " ، قَالَتْ : فَإِنِّي لَأَذْكُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ ، أَنْعَسُ فَيُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةَ الرَّحْلِ ، حَتَّى جِئْنَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ جَزَاءً بِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا ،
عائشہ روایت:
ہم نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں خیال کرتے تھے ہم مگر حج کا، پھر جب سرف میں آئی میں حائضہ ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور میں رو رہی تھی آپ نے پوچھا: ”تم کیوں رو رہی ہو۔“ میں نے عرض کیا کہ کاش اس سال نہ آتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم کو حیض ہوا۔“ میں نے عرض کیا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بلا تو اللہ پاک نے آدم کی سب لڑکیوں کے لیے لکھی ہے۔ اب تم وہی کرو جو حاجی کرتا ہے بجز اس کے کہ طواف نہ کرو بیت اللہ کا جب تک پاک نہ ہو جاؤ۔“فرماتی ہیں کہ پھر جب ہم مکہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کہ اس احرام کو عمرہ کر ڈالو۔“ سو لوگوں نے احرام کھول ڈالا (یعنی عمرہ کر کے) مگر جس کے ساتھ ہدی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی تھی اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور مالداروں کے ساتھ بھی پھر احرام باندھا انہوں نے (یعنی جنہوں نے کھول ڈالا تھا) جب چلے یعنی حج کو فرمایا سيده عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب دن ہوا نحر کا تو میں پاک ہوئی اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا سو میں نے طواف افاضہ کیا اور ہمارے پاس گائے کا گوشت آیا میں نے کہا: یہ کیا ہے؟لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں رضی اللہ عنہن کی طرف سے گائے کی ہے پھر جب شب محصب ہوئی میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگ حج اور عمرہ کر کے لوٹتے ہیں اور میں صرف حج کر کے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو انہوں نے مجھے اپنے اونٹ پر پیچھے بٹھا لیا اور فرماتی ہیں کہ مجھے خوب یاد ہے اور میں ان دنوں کمسن لڑکی تھی اور اونگھ جاتی تھی اور میرے منہ میں کجاوہ کے پیچھے کی لکڑی لگ جاتی تھی یہاں تک کہ تنعیم پہنچے اور وہاں سے میں نے عمرہ کا احرام باندھا اس عمرہ کے بدلے میں جو اور لوگوں نے کیا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنا واقعہ تفصیل سے بیان کرتی ہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلیں۔ جب سرف پہنچیں تو حیض آ گیا اور وہ رو رہی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی، پھر فرمایا کہ یہ چیز اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دی ہے، اس لیے وہ کام کرو جو حاجی کرتا ہے، مگر بیت اللہ کا طواف نہ کرو جب تک پاک نہ ہو جاؤ۔ مکہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اس احرام کو عمرہ بنا لو، سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی۔ نحر کے دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پاک ہوئیں تو انہیں طواف افاضہ کا حکم دیا گیا۔ بعد میں انہوں نے عرض کیا کہ لوگ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ لوٹ رہے ہیں، تو عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم بھیجا گیا اور انہوں نے وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ یہ حدیث حائضہ عورت کا حج، طواف افاضہ، ہدی، اور تنعیم سے عمرہ کے بارے میں اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض آنے پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو طواف کے علاوہ حاجی کے کام کرنے کا حکم دیا گیا۔
- پاک ہونے کے بعد انہیں طواف افاضہ کا حکم دیا گیا۔
- جن کے ساتھ ہدی تھی انہوں نے احرام نہیں کھولا۔
- بعد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تنعیم سے عمرہ کیا۔
