حدیث ۲۹۲۰

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۲۰

وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْمَاجِشُونِ ، غَيْرَ أَنَّ حَمَّادًا لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ : فَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَذَوِي الْيَسَارَةِ ، ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا ، وَلَا قَوْلُهَا : وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعَسُ ، فَيُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةَ الرَّحْلِ .

‏‏‏‏ اس سند سے وہی مضمون مروى ہوا مگر اس میں یہ نہیں ہے کہ ہدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور مالداروں کے ساتھ بھی پھر ان لوگوں نے اہلال کیا جب چلے اور نہ یہ ذکر ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہو کہ میں کم سن لڑکی تھی اونگھتی تھی اور میرے منہ میں کجاوے کی لکڑی لگ جاتی تھی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں