صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۵ - عمرہ کا اہلال کرنے کی اجازت

حجۃ الوداع میں عمرہ کا اہلال: ایک مختصر روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۱۵

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مُوَافِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ ، لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدَةَ ،

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۵ کا خلاصہ

یہ روایت اسی مضمون کو بیان کرتی ہے جو پہلے گزرا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذی الحجہ کے چاند کے قریب نکلے، اور ہمارا خیال حج ہی کا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو عمرہ کا اہلال کرنا پسند کرے، وہ عمرہ کا اہلال کرے۔ اس روایت میں باقی تفصیل پچھلی حدیث کے مطابق ہے۔ اس کا مرکزی موضوع حجۃ الوداع میں احرام کی صورتیں اور عمرہ کا اہلال ہے۔ آسان الفاظ میں یہ حدیث بتاتی ہے کہ اس سفر میں صرف حج ہی ایک صورت نہیں رہی، بلکہ عمرہ کا اہلال کرنے کی بھی اجازت دی گئی۔ یہ بات حج اور عمرہ کی نیت، احرام کے الفاظ، اور حجۃ الوداع کے عمل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ روایت مختصر ہے، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حجۃ الوداع کے سفر میں عمرہ کا اہلال کرنے کی اجازت دی گئی۔
  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ شروع میں ان کا خیال حج ہی کا تھا۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کے اہلال کا اختیار بیان فرمایا۔
  • یہ روایت پچھلی تفصیلی حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں