صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۴ - عائشہ رضی اللہ عنہا کا عمرہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حج اور تنعیم سے عمرہ
صحیح مسلم : ۲۹۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۱۴
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ " ، قَالَتْ : فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ، قَالَتْ : فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ ، لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " دَعِي عُمْرَتَكِ ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ ، وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا ، أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ بِي إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا ، وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَدَقَةٌ وَلَا صَوْمٌ ،
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نکلے ہم حجتہ الوادع میں ہلال ذی الحجہ کے قریب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ارادہ کرے عمرہ کا اہلال کرے اور اگر میں ہدی نہ کرتا تو عمرہ ہی کا اہلال کرتا۔“ اور کسی نے عمرہ کا، کسی نے حج کا اہلال کیا اور میں انہی میں تھی جنہوں نے عمرہ کا اہلال کیا تھا پھر جب مکہ آئے اور عرفہ کا دن ہوا میں حائضہ ہو گئی اور ابھی میں نے عمرہ سے احرام نہیں کھولا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرہ چھوڑ دو اور حج کا اہلال کرو۔“ پھر میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب شب محصب ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج پورا کیا۔ میرے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا انہوں نے مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے اور میں نے اہلال عمرہ کا کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے حج اور عمرہ دونوں پورے کیے اور نہ اس میں قربانی واجب ہوئی، نہ صدقہ، نہ روزہ۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حجۃ الوداع کا واقعہ بیان کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم ذی الحجہ کے چاند کے قریب نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عمرہ کا اہلال کرنا چاہے کرے، اور اگر میں ہدی نہ لایا ہوتا تو میں بھی عمرہ کا اہلال کرتا۔ بعض لوگوں نے عمرہ کا اور بعض نے حج کا اہلال کیا، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان لوگوں میں تھیں جنہوں نے عمرہ کا اہلال کیا تھا۔ مکہ پہنچنے کے بعد عرفہ کے دن وہ حائضہ ہو گئیں اور عمرہ سے احرام نہیں کھولا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمرہ چھوڑ دو، سر کھولو، کنگھی کرو اور حج کا اہلال کرو۔ بعد میں محصب کی رات عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم بھیجا گیا، جہاں سے انہوں نے عمرہ کیا۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ اس میں قربانی، صدقہ یا روزہ لازم نہیں ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض کی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ چھوڑ کر حج کا اہلال کیا۔
- حج مکمل ہونے کے بعد انہیں تنعیم سے عمرہ کرایا گیا۔
- روایت کے آخر میں آیا کہ اس صورت میں قربانی، صدقہ یا روزہ لازم نہیں ہوا۔
- حج کے سفر میں پیش آنے والی حالت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی دی۔
