صحیح مسلم حدیث ۲۹۴۹ - حج کے احرام کو عمرہ بنانا
حج کو عمرہ بنانے کی حدیث: تلبیہ حج کے بعد حکم
صحیح مسلم : ۲۹۴۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۴۹
وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَقُتَيْبَةُ جميعا ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ خَلَفٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقُولُ : لَبَّيْكَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً " .
جابر بن عبداللہ روایت:
آئے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ہم لبیک پکارتے تھے حج کی اور حکم کیا ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہم اس احرام حج کو عمرہ کر ڈالیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع حج کے احرام کو عمرہ بنانا ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے اور حج کا تلبیہ کہہ رہے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اس احرام کو عمرہ بنا دیں۔ روایت مختصر ہے، اس لیے اس میں صرف اتنی ہی بات صاف طور پر بیان کی جا سکتی ہے کہ صحابہ حج کی نیت اور تلبیہ کے ساتھ آئے تھے، پھر انہیں عمرہ کی طرف منتقل ہونے کا حکم دیا گیا۔ یہ حدیث حج تمتع، حج کا احرام، عمرہ بنانا، اور تلبیہ حج جیسے سرچ الفاظ سے جڑی ہے۔ اس کا آسان سبق یہ ہے کہ صحابہ نے حج کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو بنیاد بنایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ حج کا تلبیہ کہتے ہوئے آئے تھے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں احرام کو عمرہ بنانے کا حکم دیا۔
- روایت میں حج تمتع کے مضمون کی مختصر صورت بیان ہوئی ہے۔
- حج کے اعمال میں نبوی حکم کو اصل سمجھا گیا۔
