صحیح مسلم حدیث ۲۹۸۹ - حج اور عمرہ جمع کرنا

حج اور عمرہ جمع کرنے کی حدیث: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۸۹

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا ، وَقَالَ : إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، وَسَارَ حَتَّى إِذَا ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ : أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ " ، فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا جَاءَ الْبَيْتَ طَافَ بِهِ سَبْعًا ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا ، لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ ، وَرَأَى أَنَّهُ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَى .

نافع روایت:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نکلے ایام فتنہ میں عمرے کو اور کہا: اگر میں روکا گیا بیت اللہ سے تو ویسا ہی کریں گے جیسا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں کیا تھا، پھر نکلے عمرہ کا احرام کر کے یہاں تک کہ بیداء پہنچے (جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لبیک اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم نے سنی تھی حجتہ الوداع میں) اپنے یاروں سے کہا کہ حج اور عمرہ کا حکم ایک ہی ہے کہ دونوں سے اہلال کر سکتے ہیں تو میں تم کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر حج بھی عمرہ کے ساتھ واجب کر لیا اور چلے یہاں تک کہ بیت اللہ پہنچے اور وہاں سات بار طواف کیا اور سات بار صفا اور مروہ کے بیچ میں سعی کی اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ اور اسی کو کافی سمجھا اور قربانی کی۔

صحیح مسلم حدیث ۲۹۸۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع حج اور عمرہ جمع کرنا ہے۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے زمانے میں عمرہ کے لیے نکلے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم ویسا ہی کریں گے جیسا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ پھر انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا، بیداء پہنچ کر ساتھیوں سے کہا کہ حج اور عمرہ کا معاملہ ایک ہے، اور گواہ بنایا کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی لازم کر لیا۔ پھر بیت اللہ پہنچ کر سات طواف کیے، صفا مروہ کے درمیان سات سعی کی، اس سے زیادہ کچھ نہ کیا، اسے کافی سمجھا اور قربانی کی۔ اس روایت میں حج قران، عمرہ کے ساتھ حج، طواف اور سعی کا عمل واضح طور پر آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رکاوٹ کے اندیشے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو سامنے رکھا۔
  • انہوں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی لازم کر لیا۔
  • بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کو اس عمل میں کافی سمجھا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں