صحیح مسلم حدیث ۲۹۹۱ - ایک طواف کافی ہونا

حج اور عمرہ جمع ہوں تو ایک طواف: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۹۱

وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ : وَكَانَ يَقُولُ : " مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ ، وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " .

نافع روایت:

نافع سے وہی قصہ مذکور ہے مگر اخیر میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ جو حج و عمرہ جمع کرے اس کو ایک طواف کافی ہے اور احرام نہ کھولے یہاں تک کہ دونوں سے فارغ ہو کر احرام کھولے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۹۹۱ کا خلاصہ

اس روایت میں پچھلے قصے کا خلاصہ ہے، مگر آخر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک صاف قول آیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ جو شخص حج اور عمرہ کو جمع کرے، اس کے لیے ایک طواف کافی ہے، اور وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا جب تک دونوں سے فارغ ہو کر احرام نہ کھولے۔ یہ حدیث حج قران، حج اور عمرہ ایک ساتھ، ایک طواف، اور احرام کی پابندی جیسے اہم الفاظ کے گرد گھومتی ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے عمل اور قول میں حج و عمرہ کو ملا کر ادا کرنے کی صورت بیان کی۔ اس روایت میں طویل تفصیل نہیں، بلکہ حکم کے انداز میں مختصر بات آئی ہے، اس لیے تشریح بھی اسی حد میں رہنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج اور عمرہ جمع کرنے والے کے لیے ایک طواف کافی ہونے کا قول نقل ہوا ہے۔
  • دونوں عبادتوں سے فارغ ہونے تک احرام باقی رکھنے کا ذکر ہے۔
  • مختصر روایت بھی حج کے اہم مسئلے کو واضح کر سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں