صحیح مسلم حدیث ۲۹۹۳ - روایت کے الفاظ کا فرق
حج اور عمرہ کے قصے میں الفاظ کا فرق کیوں اہم ہے؟
صحیح مسلم : ۲۹۹۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۹۳
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل كِلَاهُمَا ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ حِينَ قِيلَ لَهُ يَصُدُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ ، قَالَ : إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ : هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا ذَكَرَهُ اللَّيْثُ .
ابن عمر روایت:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ قصہ اسی طرح بیان کیا گیا ہے آپ نے سوائے حدیث کے آغاز کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا۔ جب ان سے کہا گیا کہ لوگ آپ کو بیت اللہ سے روک دیں گے تو آپ نے فرمایا کہ تب میں وہی کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور حدیث کے آخر میں یہ نہیں کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع حج و عمرہ کے قصے میں روایت کے الفاظ کا فرق ہے۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وہی قصہ بیان کیا گیا، مگر نبی صلى الله عليه وسلم کا ذکر صرف حدیث کے شروع میں آیا، جب ان سے کہا گیا کہ لوگ آپ کو بیت اللہ سے روک دیں گے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ تب میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کیا۔ لیکن روایت کے آخر میں یہ الفاظ نہیں آئے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسی طرح کیا، جیسے دوسری روایت میں ذکر تھا۔ اس سے قاری کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ محدثین ہر لفظ کو الگ سے نوٹ کرتے تھے۔ حج قران، رکاوٹ، بیت اللہ سے روکے جانے، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی کے موضوع میں یہ روایت الفاظ کی امانت کو سامنے لاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت کے شروع اور آخر کے الفاظ کا فرق بھی محفوظ کیا گیا۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رکاوٹ کی صورت میں نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو معیار بنایا۔
- حدیث سمجھتے وقت راوی کے نقل کردہ الفاظ پر دھیان دینا چاہیے۔
