صحیح مسلم حدیث ۲۹۹۶ - حج و عمرہ جمع کرنے کی گواہی

حج و عمرہ جمع کرنے کی حدیث: سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۹۶

وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَمَعَ بَيْنَهُمَا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ " ، قَالَ : فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَنَسٍ فَأَخْبَرْتُهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ : كَأَنَّمَا كُنَّا صِبْيَانًا .

‏‏‏‏ مضمون وہی ہے صرف الفاظ میں یہ فرق ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا گویا ہم بچے تھے (یعنی سمجھے نہیں)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۹۹۶ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو دوسرے الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کیا۔ راوی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے حج کا احرام باندھا تھا۔ پھر راوی واپس سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات بتائی۔ اس پر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گویا ہم بچے تھے، یعنی کیا ہم سمجھ نہ سکے؟ اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنے مشاہدے پر قائم ہیں۔ حج و عمرہ جمع کرنے کی حدیث، تلبیہ، اور صحابہ کے بیانات میں الفاظ کے فرق کو سمجھنے کے لیے یہ روایت اہم ہے، مگر اس میں نئے مناسک کی تفصیل نہیں دی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنے مشاہدے کی بنیاد پر بات کی۔
  • روایت میں نبی صلى الله عليه وسلم کے حج اور عمرہ جمع کرنے کا ذکر ہے۔
  • صحابہ کے بیانات میں فرق آئے تو اصل الفاظ کو احتیاط سے دیکھا جاتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں