صحیح مسلم حدیث ۳۰۱۵ - تمتع سنت ابوالقاسم ہے
حج تمتع: یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے
صحیح مسلم : ۳۰۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۱۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ ، قَالَ : تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَمَرَنِي بِهَا ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي ، فَقَالَ : " عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " ، قَالَ : فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابوجمرہ ضبعی روایت:
میں نے تمتع کیا اور لوگوں نے مجھے منع کیا۔ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے پوچھا، سو انہوں نے مجھے حکم دیا اور پھر میں بیت اللہ کے پاس جا کر سو رہا اور خواب میں دیکھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ عمرہ بھی مقبول ہے اور حج بھی مقبول ہے۔ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خواب بیان کیا کہا: سب بزرگی اللہ کو ہے، سب بزرگی اللہ کو ہے، یہ سنت ہے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ (یعنی پھر کیوں نہ قبول ہو)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوجمرہ ضبعی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے تمتع کیا، تو کچھ لوگوں نے انہیں منع کیا۔ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور مسئلہ پوچھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں تمتع کا حکم دیا۔ پھر ابوجمرہ بیت اللہ کے پاس جا کر سوئے اور خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہتا ہے: عمرہ مقبول ہے اور حج مبرور ہے۔ جب انہوں نے یہ خواب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا تو انہوں نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اس روایت میں حج تمتع کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی صاف رہنمائی، لوگوں کے منع کرنے کے باوجود مسئلہ پوچھنے کا انداز، اور سنت کی پیروی کا مضمون سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسئلہ میں اختلاف ہو تو علم والے سے پوچھنا چاہیے۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تمتع کا حکم دیا۔
- انہوں نے اسے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قرار دیا۔
- لوگوں کے منع کرنے سے پہلے اصل دینی دلیل معلوم کرنی چاہیے۔
