صحیح مسلم حدیث ۳۰۱۸ - طواف کے بعد حلال ہونے کا فتویٰ
طواف کے بعد حلال ہونا: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا جواب
صحیح مسلم : ۳۰۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۱۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا هَذَا الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَغَّبَتْ بِالنَّاسِ ، أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ ؟ ، فَقَالَ : " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ " .
قتادہ روایت:
میں نے ابوحسان اعرج سے سنا ہے کہ ایک شخص نے بنی ھجیم کے قبیلہ میں سے کہا کہ اے ابن عباس! یہ کیا فتویٰ آپ دیتے ہیں جس میں لوگ مشغول ہو رہے ہیں یا جس میں لوگ گڑبڑ کر رہے ہیں کہ جس نے طواف کیا بیت اللہ کا (یعنی حاجیوں میں سے اور اس طواف سے طواف قدوم مراد ہے) سو وہ حلال ہو گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ سنت ہے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اگرچہ تمہاری ناک میں خاک بھر جائے۔ (یعنی تمہارے خلاف ہو تو ہوا کرے)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ آپ یہ کیا فتویٰ دیتے ہیں کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کیا وہ حلال ہو گیا؟ لوگوں میں اس بات پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اگرچہ تمہیں ناگوار ہو۔ روایت کا موضوع طواف کے بعد حلال ہونے کا مسئلہ ہے، خاص طور پر وہ صورت جس میں حج کے احرام کو عمرہ کی طرف پھیرنے کا حکم سمجھا گیا۔ اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا انداز مضبوط ہے، کیونکہ وہ مسئلہ کو اپنی رائے نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے فتویٰ کو سنت نبوی کی طرف منسوب کیا۔
- طواف کے بعد حلال ہونے کا مسئلہ لوگوں میں زیر بحث تھا۔
- دینی حکم ناگوار لگے تو بھی سنت کو مقدم رکھا جاتا ہے۔
- مسئلہ پوچھنے والے کو صاف جواب دیا گیا۔
