صحیح مسلم حدیث ۳۰۲۰ - بیت اللہ طواف اور احرام

بیت اللہ کا طواف اور حلال ہونا: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی دلیل

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۲۰

وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " لَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَاجٌّ ، وَلَا غَيْرُ حَاجٍّ ، إِلَّا حَلَّ " ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ : مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ سورة الحج آية 33 ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ ، فَقَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ : هُوَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ وَقَبْلَهُ ، " وَكَانَ يَأْخُذُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " .

عطاء روایت:

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فتویٰ دیتے تھے کہ جس نے طواف کیا بیت اللہ کا (یعنی پہلے پہل مکہ کے آتے ہی) وہ حلال ہو گیا خواہ حاجی ہو یا غیر حاجی (یعنی معتمر ہو) میں نے عطاء سے کہا کہ وہ یہ بات کہاں سے کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: اس آیت سے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ» ”پھر جگہ اس قربانی کے پہنچنے کی بیت اللہ تک ہے۔“ تو میں نے کہا: یہ تو عرفات سے آنے کے بعد ہے۔انہوں نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول یہ ہے کہ محل اس کا بیت اللہ ہے خواہ بعد عرفات کے ہو یا قبل اس کے اور وہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل مبارک سے نکالتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حکم فرمایا کہ لوگ احرام کھول ڈالیں حجۃ الوداع میں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۰۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں عطاء بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فتویٰ دیتے تھے کہ جو بیت اللہ کا طواف کرے، چاہے حاجی ہو یا غیر حاجی، وہ حلال ہو جاتا ہے۔ عطاء سے پوچھا گیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ بات کہاں سے کہتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان سے کہ اس کا محل بیت اللہ تک ہے۔ پھر سوال ہوا کہ یہ تو عرفات کے بعد ہے۔ عطاء نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک یہ بات عرفات کے بعد بھی ہے اور اس سے پہلے بھی، اور وہ اسے حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم سے لیتے تھے جب آپ نے لوگوں کو حلال ہونے کا حکم دیا۔ اس روایت میں طواف، احرام، آیت سے استدلال، اور عمل نبوی سے حکم سمجھنے کا انداز موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن عباس رضی اللہ عنہما طواف کے بعد حلال ہونے کا فتویٰ دیتے تھے۔
  • عطاء نے اس فتویٰ کی دلیل آیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بیان کی۔
  • روایت میں عرفات سے پہلے اور بعد کے پہلو پر گفتگو ہوئی۔
  • دینی مسئلہ سمجھتے وقت آیت اور عمل نبوی دونوں کو دیکھا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں