صحیح مسلم حدیث ۳۰۱۹ - طواف عمرہ ہے

طواف عمرہ ہے: سنت نبوی کے طور پر ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۱۹

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ قَدْ تَفَشَّغَ بِالنَّاسِ ، مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ الطَّوَافُ عُمْرَةٌ " ، فَقَالَ : " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ رَغَمْتُمْ " .

ابوحسان روایت:

کسی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ لوگوں میں بہت پھیل گیا ہے کہ جو طواف کرے بیت اللہ کا وہ حلال ہو گیا اور اس کو عمرہ کر ڈالے (یعنی اگرچہ احرام حج کا ہو) تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سنت تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اگرچہ تمہاری ناک میں خاک بھرے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۰۱۹ کا خلاصہ

یہ روایت 3018 کے مضمون کو قریب الفاظ کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ ابوحسان کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ یہ بات لوگوں میں بہت پھیل گئی ہے کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کیا وہ حلال ہو گیا، اور طواف عمرہ ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، چاہے تمہیں یہ بات پسند نہ آئے۔ اس حدیث میں طواف، عمرہ، احرام کھولنے، اور سنت نبوی کی پیروی کا مضمون ہے۔ روایت یہ بھی بتاتی ہے کہ بعض مسائل لوگوں میں بحث کا سبب بنتے ہیں، مگر صحابی کی نظر میں اصل وزن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • طواف کے بعد حلال ہونے کی بات کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سنت قرار دیا۔
  • لوگوں میں مسئلہ پھیلنے کے باوجود جواب سنت کی بنیاد پر دیا گیا۔
  • طواف اور عمرہ کا تعلق اس روایت میں ذکر ہوا ہے۔
  • سنت کے مقابلے میں ذاتی ناگواری کو معیار نہیں بنایا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں